Posts

اے عشق جنوں پیشہ

Image
احمد فراز کی شاعری کا آخری مجموعہ جس نظم کے نام سے موسوم کیا گیا ہے  سب سے پہلے اُسی کا کچھ حصہ حا ضرِ خدمت ہے یوں ہے کہ سفر اپنا تھا خواب نہ افسانہ آنکھوں میں ابھی تک ہے فردا کا پری خانہ صد شکر سلامت ہے پندارِ فقیرانہ  اس شہرِ خموشی میں پھر نعرۂ مستانہ  اے ہمّتِ مردانہ صد خارہ و یک تیشہ اے عشق جنوں پیشہ فراز صاحب ایک ھمہ جہت شاعر تھے جن کی شاعری کی ایک خصوصیت  اُن کی  دلیری اور صاف گوئی تھی جس کا اظہار وہ برملا کرتے رھے، ایک جگہ انہوں نے فرمایا ھے ؎ مرے ناقدوں نے فرازؔ جب مرا حرف حرف پرکھ لیا تو کہا کہ عہدِ ریا میں بھی جو بات کھری تھی کھری رہی یہ غزل ان چند غزلوں میں سے ایک ھے جو کئی شعرائے کرام نے ایک ہی زمین پر کہی تھیں جن میں مشہور ترین سراج اورنگ آبادی کی غزل تھی ؎ خبرِ تحیرِ عشق سن، نہ جنوں رہا، نہ پری رہی نہ تو تُو رہا، نہ تو میں رہا، جو رہی سو بے خبری رہی خیر وہ اپنی جگہ ھم واپس آتے ہیں فرا صاحب کی جانب اور اُن کی کُچھ اچھی غزلیں آپ کی نذر ؎ اُس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے جیسے کوئی درِ دل پر ہو ستادہ...

سرکاری ادارے اور ان کی عالمی پاکستانیت

  ھمارے سرکاری ادارے پوری دنیا میں تارکینِ وطن کو بھی وطن جیسی سہولیات  فراھم کرنے کے دعوے کرتے ھوئے نادرا اور پاسپورٹ آفس جیسے محکمے تقریباََ تمام ھائی کمیشنز اور ایمبیسیز میں کھول چُکے ہیں۔ آج صُبح سوشل میڈیا ھی کے ذریعہ ایک کافی سوشل دوست کی والدہ کے انتقال کا معلوم ھوا جو چند دن پہلے ھی کُچھ عرصہ بیٹے کے ساتھ سعودی عرب میں بِیتا کر لوٹی تھیں۔  اب بیٹے کو ماں کے پاس جنازے پر پہنچنا ھے اور معلوم ھوا کہ کاروباری مصروفیات کی بِنا پر پاسپورٹ وقت پر تجدید کےلئے نہ بھیج سکا تھا اس لئے پاسپورٹ آفس پہلے جانا ھوگا ٹکٹ تو مل ھی جانا ھے لاھور کا ریاض سے۔ سحری کے بعد دُکھی دل کے ساتھ جب یہ جوان پاسپورٹ آفس پہنچا تو پہلے سے ھی سو بندوں کی لائن لگی ھوئی جنہوں نے فجر وہیں پڑھی ھو شائد۔ اب وہ منتیں ترلے کر رہا بیچارہ کہ ۔۔۔۔۔ مگر ٹوکن سسٹم اسے آگے جانے دینے میں بہت بڑی رکاوٹ، پہلے آئیے ، پہلے پائیے والا ٹوکن پاکستان کی طرح وہاں بھی رائج کر دیا گیا ھے۔ اب صُبح سویرے فاسٹ ٹریک والا بھی سسٹم وہاں کہاں۔۔ خیر اسی قسم کی مثالوں اور بےثباتی کی کہانیوں سے ھمارا معاشرہ اور ادارے بھرے پڑے...

گولی میرے نام کی ۔۔۔۔

Image
  گولی میرے نام کی ۔۔۔۔ دسمبر کا آغٓاز ہوتے ہی کافی کچھ یاد آ جاتا ہے عوام کو  جس میں دُکھی شاعری سرفہرست ہے  لیکن مجھے ہمیشہ کچھ اور یاد آتا ہے۔ میں یاد کر بیٹھتا ہوں پھولوں کی شاعرہ کو ایک پرانا بلاگ پھر سے حاضر خدمت ہے  یہ بات  26 دسمبر 1994 کی ھے جب دن دس بجے اچانک اسلام آباد میں پروین شاکر کے حادثے میں وفات پانے کی خبر آئی ، علمی اور ادبی دُنیا کے ساتھ ساتھ تمام پاکستان سکتے میں آ گیا، کیا ھوا کیسے ھوا ایکسیڈینٹ لوڈ شیڈنگ تھی اشارہ فری تھا تو حادثہ ھوگیا فائل داخلِ دفتر۔ ادب سے مُحبت کرنے والے پریشان تھے کہ ابھی کچھ عرصہ پہلے ھی تو “ماہِ تمام” منظرِعام پر آئی تھی اور خود پروین شاکر منظر سے ہٹ گئی ہمیشہ کیلئے۔ اس حادثے سے چند دن پہلے کی ھی بات ھے جب پروین شاکر نے کراچی میں ایک مُشاعرے میں شرکت سے یہ کہہ کر مُعذرت کر لی تھی کہ نامعلوم کراچی میں کب کسی سمت سے ایک” ٹُو ھوم اِٹ مے کنسرن”  قسم کی گولی آئے اور انسان کی جان لے جائے مگر قُدرت نے کوئی اور ھی طریقہ لکھا  تھا ۔ اُسی شام میں نے سلمان احمد (جُنون گروپ والے) کو ائرپورٹ  سے لیکر...