Skip to main content
سرکاری ادارے اور ان کی عالمی پاکستانیت
ھمارے سرکاری ادارے پوری دنیا میں تارکینِ وطن کو بھی وطن جیسی سہولیات
فراھم کرنے کے دعوے کرتے ھوئے نادرا اور پاسپورٹ آفس جیسے محکمے تقریباََ تمام ھائی کمیشنز اور ایمبیسیز میں کھول چُکے ہیں۔ آج صُبح سوشل میڈیا ھی کے ذریعہ ایک کافی سوشل دوست کی والدہ کے انتقال کا معلوم ھوا جو چند دن پہلے ھی کُچھ عرصہ بیٹے کے ساتھ سعودی عرب میں بِیتا کر لوٹی تھیں۔
اب بیٹے کو ماں کے پاس جنازے پر پہنچنا ھے اور معلوم ھوا کہ کاروباری مصروفیات کی بِنا پر پاسپورٹ وقت پر تجدید کےلئے نہ بھیج سکا تھا اس لئے پاسپورٹ آفس پہلے جانا ھوگا ٹکٹ تو مل ھی جانا ھے لاھور کا ریاض سے۔ سحری کے بعد دُکھی دل کے ساتھ جب یہ جوان پاسپورٹ آفس پہنچا تو پہلے سے ھی سو بندوں کی لائن لگی ھوئی جنہوں نے فجر وہیں پڑھی ھو شائد۔ اب وہ منتیں ترلے کر رہا بیچارہ کہ ۔۔۔۔۔ مگر ٹوکن سسٹم اسے آگے جانے دینے میں بہت بڑی رکاوٹ، پہلے آئیے ، پہلے پائیے والا ٹوکن پاکستان کی طرح وہاں بھی رائج کر دیا گیا ھے۔ اب صُبح سویرے فاسٹ ٹریک والا بھی سسٹم وہاں کہاں۔۔
خیر اسی قسم کی مثالوں اور بےثباتی کی کہانیوں سے ھمارا معاشرہ اور ادارے بھرے پڑے ہیں۔ نادرا جائیں اور آپ کو ایمرجینسی ھے چاھے وہ امتحان میں بیٹھنے کیلئے شناختی کارڈ کی تجدید کا کام ھے یا بیرونِ ملک جانے کیلئے اوور سیز شناختی کارڈ بنوانے کا عمل، اگر آپ فاسٹ ٹریک لائین میں لگ کر پانچ گُنا یا اس سے بھی زیادہ فیس دے کر کام فوری کروا لیں تو دو گھنٹے میں کام ھو جاتا ھے ورنہ مہینہ تو لگے گا۔
اس قسم کی کئی گُنا زیادہ فیسوں ھی کے ذریعے یہ ادارے منافع بخش قرار پاتے ہیں۔ لوگوں کی مجبوریوں کو مُنافع میں تبدیل کرنے کا عمل پاکستانی بخوبی جانتے ہیں۔
کافی سارے ادارے سہولیات دینے کے نام پر آپ سے کس طرح منافع کما رھے ہیں وہ آپ کی سوچ سے باہر ھے، ایک انٹرنیٹ پیکیج کی قیمت کم کرکے
ایک ہزار روپے میں چار ایم بی میں آپ کو بیس جی بی ڈیٹا مہیا کرنے کا اشتہار چلتا ھے اور عوام ٹُوٹ پڑتی ھے اُس پیکیج کو لینے کیلئیے۔ جب مہینہ گُذرتا ھے تو فیس بُک، ٹویٹر، ویڈیو سٹریمنگ اور واٹس ایپ وغیرہ کے زُمرے میں صارف بیس کی بجائے بائیس جی بی ڈیٹا استعمال کر چُکا ھوتا ھے، تب بل پر آتا ھے کہ پانچ سو روپے فی پانچ جی بی ایکسٹرا کے حساب سے اضافی بل آگیا ھے۔
کافی ادارے اسی اضافی پانچ سو پر اپنا پرافٹ آسمان تک پہنچا چُکے ہیں۔ اگر کبھی کوئی کمپلینٹ کر بیٹھیں تو پھر کارپوریٹ کلچر کے باوجُود لمبا انتظار آپکا مُقدر بن جاتا ھے۔
ھمارے تمام سرکاری و نیم سرکاری ادارے یہی کُچھ کرتے نظر آرھے ہیں اور اوپر سے ایف بی آر نے فائیلر اور نان فائیلر کا ایسا چکر چلایا ھے کہ ھر جگہ آپ سے اب فائیلر ھونے کا سوال بھی پُوچھا جانے لگا ھے۔ شاید چند سالوں میں نکاح نامے میں بھی فائیلر یا نان فائیلر کا خانہ ڈال دیا جائے !! اب تو آپ گاڑی چاھے مہران لیں یا مرسیڈیز آپ فائیلر نہیں ہیں تو ٹیکس ڈبل۔
آپ ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے ایک سال بعد بھی چیک کریں تو ایف بی آر کی ایس ایم ایس آتی ھے کہ آپ نان فائیلر ہی ہیں۔ اور ھمارا ٹیکس کھانے والے حُکمران غیر مُلکی دوروں پر رواں دواں اور ھم پاسپورٹ بنوانے کیلئیے ذلتوں کے نئے سے نئے رنگ دیکھتے ہیں۔
پاکستانی بھائی بھی امریکہ اور کنیڈا یا انگلینڈ جاکر شہریت بدلنے کا سوچتے ہیں تو ٹھیک ھی سوچتے ہیں ناں پھر کہ چل بُلھیا اوتھے چلئے کینیڈا ، آسٹریلیا یا دوبئی
Comments
Post a Comment