گولی میرے نام کی ۔۔۔۔ دسمبر کا آغٓاز ہوتے ہی کافی کچھ یاد آ جاتا ہے عوام کو جس میں دُکھی شاعری سرفہرست ہے لیکن مجھے ہمیشہ کچھ اور یاد آتا ہے۔ میں یاد کر بیٹھتا ہوں پھولوں کی شاعرہ کو ایک پرانا بلاگ پھر سے حاضر خدمت ہے یہ بات 26 دسمبر 1994 کی ھے جب دن دس بجے اچانک اسلام آباد میں پروین شاکر کے حادثے میں وفات پانے کی خبر آئی ، علمی اور ادبی دُنیا کے ساتھ ساتھ تمام پاکستان سکتے میں آ گیا، کیا ھوا کیسے ھوا ایکسیڈینٹ لوڈ شیڈنگ تھی اشارہ فری تھا تو حادثہ ھوگیا فائل داخلِ دفتر۔ ادب سے مُحبت کرنے والے پریشان تھے کہ ابھی کچھ عرصہ پہلے ھی تو “ماہِ تمام” منظرِعام پر آئی تھی اور خود پروین شاکر منظر سے ہٹ گئی ہمیشہ کیلئے۔ اس حادثے سے چند دن پہلے کی ھی بات ھے جب پروین شاکر نے کراچی میں ایک مُشاعرے میں شرکت سے یہ کہہ کر مُعذرت کر لی تھی کہ نامعلوم کراچی میں کب کسی سمت سے ایک” ٹُو ھوم اِٹ مے کنسرن” قسم کی گولی آئے اور انسان کی جان لے جائے مگر قُدرت نے کوئی اور ھی طریقہ لکھا تھا ۔ اُسی شام میں نے سلمان احمد (جُنون گروپ والے) کو ائرپورٹ سے لیکر...
Comments
Post a Comment