اے عشق جنوں پیشہ
احمد فراز کی شاعری کا آخری مجموعہ جس نظم کے نام سے موسوم کیا گیا ہے
سب سے پہلے اُسی کا کچھ حصہ حا ضرِ خدمت ہے
یوں ہے کہ سفر اپنا
تھا خواب نہ افسانہ
آنکھوں میں ابھی تک ہے
فردا کا پری خانہ
صد شکر سلامت ہے
پندارِ فقیرانہ
اس شہرِ خموشی میں
پھر نعرۂ مستانہ
اے ہمّتِ مردانہ
صد خارہ و یک تیشہ
اے عشق جنوں پیشہ
فراز صاحب ایک ھمہ جہت شاعر تھے جن کی شاعری کی ایک خصوصیت
اُن کی دلیری اور صاف گوئی تھی جس کا اظہار وہ برملا کرتے رھے، ایک جگہ انہوں نے فرمایا ھے
؎
مرے ناقدوں نے فرازؔ جب مرا حرف حرف پرکھ لیا
تو کہا کہ عہدِ ریا میں بھی جو بات کھری تھی کھری رہی
یہ غزل ان چند غزلوں میں سے ایک ھے جو کئی شعرائے کرام نے ایک ہی زمین پر کہی تھیں جن میں مشہور ترین سراج اورنگ آبادی کی غزل تھی
؎
خبرِ تحیرِ عشق سن، نہ جنوں رہا، نہ پری رہی
نہ تو تُو رہا، نہ تو میں رہا، جو رہی سو بے خبری رہی
خیر وہ اپنی جگہ ھم واپس آتے ہیں فرا صاحب کی جانب اور اُن کی کُچھ اچھی غزلیں آپ کی نذر
؎
اُس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے
یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے
جیسے کوئی درِ دل پر ہو ستادہ کب سے
ایک سایہ نہ دروں ہے نہ بروں ہے یوں ہے
تم نے دیکھی ہی نہیں دشتِ وفا کی تصویر
نوکِ ہر خار پہ اک قطرۂ خوں ہے یوں ہے
تم محبت میں کہاں سو د و زیاں لے آئے
عشق کا نام خرد ہے نہ جنوں ہے یوں ہے
اب تم آئے ہو مری جان تماشا کرنے
اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے یوں ہے
ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے
روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے یوں ہے
شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فرازؔ
یہ بھی اک سلسلۂ کُن فیکوں ہے یوں ہے
اس مجموعہِ کلام کی مزید غزلوں کیلئے اگلا بلاگ ملاحظہ کیجئے

Comments
Post a Comment